Skip to main content

مولوی صاحب اور سانپ,A man and snake


سانپ اور بچھو


 

ایک دفعہ کا ذکر ہے

 ایک مولوی صاحب اپنے گھر میں ارام کر رہے تھے یہ بات ہے ایک گرمیوں کی دوپہر کی گرمیوں کے دن تھے مولوی صاحب نے ایک سانپ کو دیکھ لیا مولوی صاحب نے کہا کہ اگر تو جنات میں سے ہے تو چلا جا مگر وہ سانپ نہیں گیا مولوی صاحب نے اگے بڑھ کر سانپ کو مار ڈالا کچھ وقت گزرنے کے بعد دو بندے مولوی صاحب کے دروازے پہ ائے انہوں نے دستک دی مولوی صاحب دروازے پر گئے تو وہ بندے کہنے لگے مولوی صاحب ہماری بیٹی کی شادی ہے اپ نے چل کر نکاح پڑھوانا ہے ہم اپ کی خدمت کریں گے بس قریب ہی ہمارا گاؤں ہے 


تو مولوی صاحب ساتھ چل پڑے کافی دیر چلنے کے بعد مولوی صاحب نے پوچھا کہ اپ کا گاؤں اور کتنے دور ہے تو کہنے لگے مولوی صاحب چپ چاپ ہمارے ساتھ چلتے رہو ہم انسانوں میں سے نہیں ہیں ہم جنات میں سے ہیں اپ نے ہمارے بیٹے کو قتل کیا ہے قاضی صاحب عدالت لگائے بیٹھے ہیں اپ کا فیصلہ کرنا ہے اس لیے ہم اپ کو لینے ائے ہیں مولوی صاحب تھوڑا گھبرا گئے مگر ساتھ چلتے رہے تھوڑی دیر کے بعد وہ وہاں پہنچ گئے مولوی صاحب نے دیکھا کہ ایک بہت زیادہ عمر رسیدہ شخص قاضی کے منصب پہ بیٹھا ہے جو کہ شکل و صورت سے مسلمان بھی لگ رہا ہے جب مولوی صاحب وہاں پہنچے تو قاضی صاحب نے نظر اٹھا کر مولوی صاحب کی طرف دیکھا اور قاضی صاحب نے کہا مولوی صاحب جسے اپ نے سانپ سمجھ کر مارا ہے وہ تو ہمارے قبیلے کا بچہ تھا اپ پر قتل کا مقدمہ ہے اپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہیں مولوی صاحب نے کہا کہ میں نے ایک حدیث پڑھی تھی جس کے مطابق اگر اپ سانپ کو دیکھ لو تو اس سے کہو کہ اگر تو جنات میں سے ہے تو چلا جا میں نے ایسا ہی کیا مگر وہ نہیں گیا تو میں نے سمجھا یہ سانپ ہے اس لیے میں نے اسے مار ڈالا یہ سن کر قاضی صاحب کھڑے ہو گئے انہوں نے فیصلہ سنایا اور کہا مولوی صاحب اپ کو باعزت بری کیا جاتا ہے اپ کا کوئی قصور نہیں ہے قاضی قاضی صاحب نے دو سپاہیوں کو کہا کہ جاؤ مولوی صاحب کو احترام کے ساتھ گھر چھوڑ کر اؤ سپاہی مولوی صاحب کے ساتھ چل پڑے اور مولوی صاحب کو گھر پہنچا دیا



 ائندہ ملیں گے نئی کہانی کے ساتھ اللہ حافظ


Comments

Popular posts from this blog

Home Remedies video

  Click now Watch Full Video

Sadqa ki barkat bark صدقہ کی برکت

اسلام علیکم ایک گاؤں میں ایک ظالم شخص رہتا تھا وہ ہر وقت لوگوں کو تنگ کرتا رہتا تھا  گاؤں کے لوگ اس سے بہت تنگ تھے اس گاؤں میں ایک نیک بزرگ بھی  رہتے تھے ایک دن سب گاؤں والے مل کر اس بزرگ کے پاس گیے اور کہنے لگے دعا کریں کہ ہماری اس ظالم شخص سے جان چھوٹ جاۓ بزرگ نے دعا کی اور کہا ک شام تک یہ بندہ مر جاۓ گا گاؤں کے لوگ شام ہونے کا انتظار کرنے  لگے شام ہوئ تو کیا دیکھا کہ وہ ظالم شخص  لکڑیوں کا گٹھا لیے گھر واپس آ گیا  لوگ حیران ہوۓ ایک دوسرے کی طرف  دیکھنے لگے اور سب مل کر پھر بزرگ  کے پاس گیے اور کہا آپ نے کہا تھا شام  تک یہ شخص مر جاۓ گا وہ تو بلکل ٹھیک  واپس آ گیا ہے بزرگ نے کہا چلو اس کے پاس  آپ کو کچھ دیکھاتے ہیں سب لوگ بزرگ کے ساتھ چل دیےجب اس ظالم کے پاس پہنچے تو بزرگ نے کہا اے شخص آج دن میں تو نے کون سا اچھا کام کیا ھے وہ شخص بولا  کچھ خاص نہیں جنگل میں جب مجھے بھوک لگی میں کھانا کھانے لگا تو میرے قریب ایک بھوکا کتا آ کر بیٹھ گیا میرے  پاس ایک روٹی تھی  میں نے روٹی کے دو برابر حصے کیے ایک حصہ اللہ کے نام پر میں نے ک...

عمران خان imran khan pti

پاکستان تحریک انصاف کے چہرمین  عمران خان نے کہا ہے میں نہ ملک چھوڑ کر جاؤں گا اور نہ ہی پاڑٹی کی قیادت چھوڑوں گا پاکستان میرا گھر ہے  لوگ پاکستان کو لوٹ کر اپنا سرمائہ  باہر لے کر گیے ہیں اور میں اپنا سب کچھ باہر سے بیچ کر اپنے پیارے پاکستان میں  لے کر آیا ہون پاکستان میرا گھر ہے لیڈر ہو تو ایسا  https://leanbliss24.com/text.php#aff=Shahida624