ایک مولوی صاحب اپنے گھر میں ارام کر رہے تھے یہ بات ہے ایک گرمیوں کی دوپہر کی گرمیوں کے دن تھے مولوی صاحب نے ایک سانپ کو دیکھ لیا مولوی صاحب نے کہا کہ اگر تو جنات میں سے ہے تو چلا جا مگر وہ سانپ نہیں گیا مولوی صاحب نے اگے بڑھ کر سانپ کو مار ڈالا کچھ وقت گزرنے کے بعد دو بندے مولوی صاحب کے دروازے پہ ائے انہوں نے دستک دی مولوی صاحب دروازے پر گئے تو وہ بندے کہنے لگے مولوی صاحب ہماری بیٹی کی شادی ہے اپ نے چل کر نکاح پڑھوانا ہے ہم اپ کی خدمت کریں گے بس قریب ہی ہمارا گاؤں ہے
تو مولوی صاحب ساتھ چل پڑے کافی دیر چلنے کے بعد مولوی صاحب نے پوچھا کہ اپ کا گاؤں اور کتنے دور ہے تو کہنے لگے مولوی صاحب چپ چاپ ہمارے ساتھ چلتے رہو ہم انسانوں میں سے نہیں ہیں ہم جنات میں سے ہیں اپ نے ہمارے بیٹے کو قتل کیا ہے قاضی صاحب عدالت لگائے بیٹھے ہیں اپ کا فیصلہ کرنا ہے اس لیے ہم اپ کو لینے ائے ہیں مولوی صاحب تھوڑا گھبرا گئے مگر ساتھ چلتے رہے تھوڑی دیر کے بعد وہ وہاں پہنچ گئے مولوی صاحب نے دیکھا کہ ایک بہت زیادہ عمر رسیدہ شخص قاضی کے منصب پہ بیٹھا ہے جو کہ شکل و صورت سے مسلمان بھی لگ رہا ہے جب مولوی صاحب وہاں پہنچے تو قاضی صاحب نے نظر اٹھا کر مولوی صاحب کی طرف دیکھا اور قاضی صاحب نے کہا مولوی صاحب جسے اپ نے سانپ سمجھ کر مارا ہے وہ تو ہمارے قبیلے کا بچہ تھا اپ پر قتل کا مقدمہ ہے اپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہیں مولوی صاحب نے کہا کہ میں نے ایک حدیث پڑھی تھی جس کے مطابق اگر اپ سانپ کو دیکھ لو تو اس سے کہو کہ اگر تو جنات میں سے ہے تو چلا جا میں نے ایسا ہی کیا مگر وہ نہیں گیا تو میں نے سمجھا یہ سانپ ہے اس لیے میں نے اسے مار ڈالا یہ سن کر قاضی صاحب کھڑے ہو گئے انہوں نے فیصلہ سنایا اور کہا مولوی صاحب اپ کو باعزت بری کیا جاتا ہے اپ کا کوئی قصور نہیں ہے قاضی قاضی صاحب نے دو سپاہیوں کو کہا کہ جاؤ مولوی صاحب کو احترام کے ساتھ گھر چھوڑ کر اؤ سپاہی مولوی صاحب کے ساتھ چل پڑے اور مولوی صاحب کو گھر پہنچا دیا
ائندہ ملیں گے نئی کہانی کے ساتھ اللہ حافظ
.jpg)
Comments